ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بغائی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مذاکرہ کا مطلب حقیقی اور مخلصانہ کوشش ہے گفتگو کی جس کا مقصد اختلافات حل کرنا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے ایک اپریل دو ہزار گیارہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس لیے مذاکرہ سنجیدگی اور حسن نیت کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرہ نہ جدل ہے نہ ڈکٹیشن، نہ اخاذی اور نہ اجبار۔

یہ بھی پڑھیں : محمد باقر قالیباف: ملت ایران جان دے گی مگر تسلیم نہیں ہوگی

ایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے