مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے قراوہ بنی حسان سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ نوجوان قصی ابراہیم علی ریان ایک ماہ تک قابض دشمن کی قید میں رہنے کے بعد بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔
قصی ریان کو ایک ماہ قبل ایک غاصب آباد کار نے فائرنگ کر کے زخمی کیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
کلب برائے اسیران اور محکمہ امور اسیران نے بتایا کہ قصی ریان کو 15 اپریل 2026 کو دیراستیا قصبے کے قریب وادی عباس سے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری، شہداء کی تعداد 2869 ہو گئی
انہیں بلینسن ہسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں رکھا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ شہید ہو گئے۔
اسیران کمیشن اور کلب برائے اسیران نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ قابض دشمن نے قصی ریان پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ انہوں نے چاقو سے حملہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ قصی ریان ایک بچی کے باپ تھے اور ان کی شہادت قابض اسرائیل کے جاری جرائم کا تسلسل ہے۔
دونوں اداروں نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔


