روس نے ایران کے ساتھ مل کر مغربی ایشیا کے بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور امریکہ اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری الیگزینڈر وینیڈکٹوف نے ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری سے ملاقات میں یہ بات کہی۔ یہ ملاقات بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکیورٹی کونسل سیکرٹریز کے 21ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ بحری قزاقی کر رہا ہے، تہران نے ٹینکر ضبطی کا دفاع کیا: ایرانی عدلیہ
وینیڈکٹوف نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں ہمارے دونوں ممالک کے درمیان خارجہ پالیسی کا اعلیٰ سطح کا ہم آہنگی موجود ہے۔ ہم بین الاقوامی قانون کے دائرے میں پرامن حل تلاش کریں گے۔
انہوں نے 28 فروری کو امریکہ اسرائیل کی ایران پر غیر متوقع جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی اعلیٰ حکام اور کمانڈروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔
روسی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایرانی قوم تقسیم نہیں ہوئی بلکہ بیرونی خطرات کے سامنے مزید متحد ہو گئی ہے۔
علی باقری نے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی سطح پر دنیا کو جنگل بنانا چاہتا ہے جہاں قانون کی کوئی جگہ نہیں۔ تاہم روس کا مضبوط موقف اس بات کا ثبوت ہے کہ ماسکو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ایسا نہیں ہونے دے گا۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد پر روس کے ویٹو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس سلامتی کا ضامن ہے۔
باقری نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی جارحیت عالمی جنوب پر حملہ ہے جو ایشیا کی ترقی روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس کا جواب کمزور ہوا تو یہ جنگ مزید پھیلے گی۔
دوسری جانب روس کی خارجہ انٹیلی جنس کے سربراہ سرگئی ناریشکِن نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت میں غلطی کی تھی۔ ان کا اندازہ تھا کہ آسانی سے فتح ہو جائے گی مگر ایرانی قوم، حکومت اور فوج نے بہادری سے مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی بہت بڑی فوجی صلاحیت رکھتا ہے اور مذاکرات جاری ہیں مگر مزید کشیدگی کا امکان بھی موجود ہے۔


