ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیری نے امریکہ کی بحری قزاقی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں امریکی اور امریکی سے منسلک ٹینکروں کی ضبطی مکمل طور پر قانونی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بحریہ نے تمام کارروائیاں ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کی ہیں اور ان ضبطیوں کے پیچھے ایرانی عدالتوں کے حتمی اور واضح فیصلے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : US ‘Engaging in Piracy’ as Tehran Defends Tanker Seizures: Iran Judiciary
جہانگیری نے کہا کہ امریکی فوجی دستے، خاص طور پر سینٹ کام، خلیج فارس میں مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کھلے عام قزاقی کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ساحلی ریاستوں کو اپنے علاقائی پانیوں میں خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو ضبط کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ کی ایران پر ناکہ بندی اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کی غاصبانہ اور یک طرفہ پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔
جہانگیری نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں ناکام ہو چکے ہیں اور ایرانی مسلح افواج خلیج فارس میں امریکی طاقت کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے سیز فائر تو بڑھا دیا ہے مگر ساتھ ہی غیر انسانی ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔


