امریکہ نے انکشاف کیا ہے کہ روس بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو فوجی سامان اور ڈرون پرزے فراہم کر رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی اور مغربی پابندیوں کے باوجود روس، ایران اور چین مل کر امریکی دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد روس نے بحیرہ کیسپین کے ذریعے ایران کو سامان کی ترسیل شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 39 شہید، جنگ بندی کی خلاف ورزی
بحیرہ کیسپین خلیج فارس سے سینکڑوں میل شمال میں واقع ایک بڑا آبی ذخیرہ ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ راستہ اب روس اور ایران کے درمیان نئی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ روس اس راستے سے ایران کو ڈرون کے پرزے پہنچا رہا ہے۔ اس سے ایران حالیہ لڑائی میں اپنے تقریباً ساٹھ فیصد ڈرون ذخیرے کے نقصان کے بعد اپنی حملہ آور صلاحیت دوبارہ بحال کر رہا ہے۔
بحری نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق روس اور ایران کے درمیان چلنے والے جہاز اکثر اپنے ٹرانسپونڈر بند کر دیتے ہیں جس سے ان کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔
پیرس کے ادارہ سائنسز پو سے وابستہ ماہر نکول گریجویسکی کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں سے بچ کر فوجی سامان منتقل کرنے کا بہترین راستہ سوچا جائے تو وہ بحیرہ کیسپین ہی ہے۔
یہ ترسیلات ماسکو اور تہران کے درمیان قریبی دفاعی تعاون کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران جلد اپنے ڈرون ذخیرے کو دوبارہ مکمل کر سکے گا۔


