اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے غاصب صیہونی دشمن کے وزیر دفاع اور جنگی مجرم یسرائیل کاٹز کے مظلوم فلسطینی اسیران کو فوری سزائے موت دینے کے احکامات کو انتہائی خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور قابض دشمن کی منظم دہشت گردی و نسل کشی کا تسلسل ہے۔
حماس نے واضح کیا کہ یہ بزدلانہ اور مجرمانہ اقدام ہماری مجاہد قوم کو اپنی سرزمین اور مقدسات کے دفاع میں جاری جائز مزاحمت سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ صیہونی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور پھانسیوں کی دھمکیاں فلسطینی عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
حماس نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غاصب دشمن پر دباؤ ڈالیں تاکہ یہ نسل پرستانہ فیصلہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ صیہونی رہنماؤں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور صیہونی وجود کا عالمی بائیکاٹ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں صہیونی دہشت گردوں کی بزدلانہ بمباری، جہاد اسلامی رہنما وائل عبد الحلیم اور ان کی بیٹی شہید
غاصب صیہونی حکومت نے 11 مئی کو کنیسٹ میں قانون منظور کیا جس کے تحت 7 اکتوبر 2023 کے طوفان اقصیٰ آپریشن میں حصہ لینے والے مجاہدین سمیت فلسطینی اسیران پر خصوصی عدالتی نظام کے ذریعے پھانسی کا حکم دیا جا سکے گا۔ یہ قانون صیہونی عقوبت خانوں میں جاری میدانی پھانسیوں اور سلو پوائزننگ کی پالیسی کو قانونی تحفظ دینے کی ناپاک کوشش ہے۔


