حزب اللہ کے ڈرون حملے اسرائیلی دفاعی پوزیشن کو شدید دباؤ میں ڈال رہے ہیں: اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی چینل آئی 24 نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے آپریشنل ابتکار برقرار ہے اور وہ unmanned aerial systems (UAS/ڈرونز) کا استعمال کر رہا ہے جو اسرائیلی فورسز کے لیے بڑا حکمت عملی اور آپریشنل چیلنج بن گئے ہیں۔
چینل کے فوجی نامہ نگار نے کہا کہ حزب اللہ پہلی بار بڑے پیمانے پر ڈرون آپریشنز کر رہا ہے اور unmanned aerial systems کو شمالی بستیوں اور مقبوضہ علاقوں میں فوجی اہداف پر مسلسل حملوں کے لیے استعمال کر رہا ہے، جو آپریشنل رسائی اور حملوں کی فریکوئنسی دونوں میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں تین کارروائیوں نے اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسرائیلی فورسز کے ترجمان نے تصدیق کی کہ حزب اللہ کے آپریشنل حملوں میں تین فوجی زخمی ہوئے جن میں ایک افسر بھی شامل ہے۔
اسی تناظر میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود بارک نے شمالی محاذ کی صورتحال کو وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے "اسٹریٹجک ناکامی” قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فورسز نے غمزدہ جنین فیملی کو بیٹے کی قبر کھودنے پر مجبور کر دیا
اسرائیلی فورسز نے تسلیم کیا کہ لبنان محاذ جمود کا شکار ہے جبکہ ڈرون خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق ایک اعلیٰ فوجی افسر نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی فورسز تیزی سے تبدیل ہوتے ڈرون خطرے کا مؤثر جواب دینے میں جدوجہد کر رہی ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 نے شمالی مقبوضہ فلسطین میں دھماکہ خیز ڈرون خطرے کے بڑھتے دائرے پر تشویش کا اظہار کیا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر ایف پی وی ڈرون حملوں کی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں براہ راست نشانے لگائے گئے ہیں۔


