برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات کیئر اسٹارمر کیلئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے، لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا
لندن: برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیلئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے۔ ریفارم پارٹی نے توقع سے زائد نشستیں جیت کر لیبر پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو تاریخی دھچکا لگا۔ نائجل فاریج کی ریفارم یوکے نے توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کرتے ہوئے شمالی انگلینڈ اور مڈلینڈز سمیت لیبر پارٹی کے کئی مضبوط گڑھ چھین لیے ہیں۔
اسٹارمر کی جماعت نے ہارٹل پول، ٹم ورتھ، ٹم سائیڈ، ریڈیچ اور ایکسٹر کی کونسلوں کا کنٹرول مکمل طور پر کھو دیا۔
انگلینڈ بھر میں مقامی حکومتوں کی 5 ہزار سے زائد نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج کی آمد جاری ہے، جس میں ریفارم پارٹی واضح برتری کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے۔
ریفارم یوکے نے اب تک 390 کونسلر نشستیں جیت کر سب سے آگے ہے جبکہ لیبر پارٹی نشستوں میں بڑی کمی کے بعد اب تک صرف 253 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔
اسی طرح ٹوری پارٹی بھی 253 نشستوں کے ساتھ لیبر کے برابر ہے جبکہ لبرل ڈیموکریٹس 245 اور گرین پارٹی 51 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔
اگرچہ ریفارم پارٹی نے نشستیں زیادہ جیتی ہیں، لیکن کونسلز بنانے میں لیبر اب بھی آگے ہے۔ لیبر پارٹی 10 کونسلوں میں فتح حاصل کر کے حکومت بنانے میں سرفہرست ہے جبکہ کنزرویٹو پارٹی 6 کونسلوں میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی اور ریفارم یوکے 2 کونسلوں میں کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔
لیبر پارٹی نے ہارٹل پول، ٹم ورتھ، ٹم سائیڈ، ریڈیچ اور ایکسٹر جیسی اہم کونسلوں کا مکمل کنٹرول کھو دیا ہے۔
تاریخی فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ریفارم یوکے کے سربراہ نائجل فاریج نے کہا کہ ہم اب 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : باب المندب میں ہزاروں بارودی سرنگیں اور جنگی باقیات تلف
دوسری جانب، لیبر پارٹی کے مضبوط گڑھ چھن جانے پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور سیاسی رہنما جوناتھن بریش نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، ان انتخابات نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے اور مستقبل کے عام انتخابات کے لیے ریفارم یوکے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔


