ایران کی جانب سے اسرائیلی فوج کے فعال ڈیوٹی والے فوجیوں کو بھرتی کرنے کا جاسوسی سکینڈل اسرائیلی فوجی اور سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل کا باعث بن گیا ہے۔ یہ واقعات ایران کی اسرائیلی فوج کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسرائیلی براڈکاسٹر i24 نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایران اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے فوجیوں کو بھرتی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور ان سے انتہائی حساس سیکیورٹی معلومات حاصل کر رہا ہے۔ یہ پچھلے کیسز سے مختلف ہے جہاں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو کے فوجی نامہ نگار دورون کادوش نے اسے انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایران عام شہریوں کو بھرتی کرتا تھا مگر اب براہ راست فوجیوں تک رسائی حاصل کر لیا گیا ہے۔
ملزمان اسرائیلی فضائیہ کے ٹیکنیکل سکول کے طلباء ہیں جو ایک فعال فوجی اڈے پر ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق انہوں نے اڈے کے اندر حساس مقامات کی تصاویر کھینچیں اور تل ابیب کے ساویدور مرکزی ریلوے اسٹیشن اور حیفا میں ایک عمارت کی تصاویر بھیج دیں جنہیں حالیہ جنگ میں ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا تھا۔
ایک ملزم نے خود ایرانی ہینڈلرز سے رابطہ کیا اور ایف 16 لڑاکا طیاروں کی تصاویر اور عین مقامات 15 ہزار شیکل یعنی تقریباً پانچ ہزار ڈالر میں دینے کی پیشکش کی۔ ایرانی ہینڈلر نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایف 16 چھوڑو، مجھے آئرن ڈوم سسٹم کے مقامات بتاؤ۔ ہر جگہ کے لیے پانچ ہزار شیکل پیش کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : اسدالدین اویسی نے ناشک ٹی سی ایس کیس پر میڈیا ٹرائل کی مذمت کی
کادوش نے بتایا کہ یہ کارروائیاں زیادہ تر ٹیلی گرام کے ذریعے ہوئیں جو ایران کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ کچھ فوجی خود ایرانی نیٹ ورکس سے رابطہ کر کے آسانی سے کمائی کا موقع تلاش کر رہے تھے۔
ادا کی گئی رقم بہت کم تھی۔ ایک فوجی نے تمام معلومات کے بدلے صرف 5,500 ڈالر لیے جبکہ دوسروں کو 800 سے 1,000 ڈالر فی تبادلہ ملے۔ کادوش نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایرانی اتنی کم رقم دے کر بھی اہم معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
شین بیت اور پولیس کے اندازے کے مطابق ملزمان کو یقین تھا کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے اور فوجی تنخواہ کے علاوہ اضافی آمدنی کا یہ آسان ذریعہ سمجھتے تھے۔
کادوش نے کہا کہ اکتوبر 2023 کے واقعات کے ڈھائی سال بعد بھی اسرائیلی فوجیوں کا ایران کے ساتھ تعاون ریاست کی سیکیورٹی کے لیے سنگین دھوکہ ہے۔
یہ واحد کیس نہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک 50 سے زائد اسرائیلی شہریوں پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ شین بیت کے مطابق 2025 میں ایرانی بھرتی کی کوششوں میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


