ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو ایٹم بم سے تشبیہ دے دی
تہران: ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایٹم بم رکھنے جیسا ہے، درحقیقت کسی کے ہاتھ میں ایسے فیصلے کی پوزیشن ہونا جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہو، ایک بڑا موقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے دنیا کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمز کو اپنا سب سے طاقتور اسٹریٹجک ہتھیار قرار دے دیا۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول درحقیقت ایٹم بم رکھنے جیسا ہے، ایران کبھی بھی اس اہم اسٹریٹجک برتری سے دستبردار نہیں ہوگا۔
محمد مخبر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایٹم بم کی طرح کام کر رہا ہے، درحقیقت کسی کے ہاتھ میں ایسے فیصلے کی پوزیشن ہونا جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہو، ایک بڑا موقع ہے۔ ایران نے ایک طویل عرصے تک اپنی اس جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز کیے رکھا، لیکن اب اسے اپنی سب سے بڑی طاقت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی ملک کے پاس ایسے مقام کا کنٹرول ہونا جہاں سے ایک فیصلہ عالمی معیشت کا رخ موڑ سکے، ایک ایسا موقع ہے جو کسی ایٹمی ہتھیار سے کم قیمتی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
محمد مخبر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران حالیہ جنگی صورتحال سے حاصل ہونے والے اسٹریٹجک فوائد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب سربراہ ایرانی پارلیمنٹ نیشنل سیکیورٹی کمیشن ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک قانونی رجیم بل مکمل طور پر تیار ہے، ایرانی پارلیمنٹ کی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر بحال ہوتے ہی اس بل کو منظور کر لیا جائے گا۔
اس قانون کے ذریعے ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت یا یک طرفہ طور پر آبنائے ہرمز کے نظام میں ایسی تبدیلیاں لائے گا جس سے اس کا کنٹرول مزید مستحکم ہو جائے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اسے معاشی ایٹم بم قرار دینے اور قانونی طور پر اس کا نظام بدلنے کی دھمکی نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران اس پوزیشن کو عالمی طاقتوں کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔


