وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا ہے کہ امریکہ کو کبھی بھی قابل اعتبار فریق نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے متضاد بیانات کی وجہ سے دنیا میں امریکی سفارت کاری کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں آبنائے ہرمز کے حالیہ قانونی اور سیاسی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ آبی راستہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔ ایران نے اس راستے پر محفوظ ٹریفک یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔ 29 فروری کا واقعہ امریکہ کی قانون کی خلاف ورزی تھا جس کے جواب میں ایران نے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی خودمختاری کا دفاع کیا۔
باغائی نے واضح کیا کہ ایران کا خطے کے کسی بھی ملک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ باہر کی طاقتوں کی سازشوں سے بچیں اور ایک اندرونی سلامتی کا نظام قائم کریں۔ امریکہ کی موجودگی خطے کے لیے عدم تحفظ کا باعث ہے۔
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ایران میڈیا پر مذاکرات نہیں کرتا۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں اور ہم ایرانی قوم کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔ امریکہ معاشی دباؤ ڈالتا ہے مگر ایران اپنے حقوق کے لیے ڈٹا ہوا ہے۔
ترجمان نے امریکہ کو سمندروں میں عدم تحفظ کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا۔ ایران نے امریکہ سے معاوضے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جو جاری ہے۔ انہوں نے ایران-عراق تعلقات کو گہرے اور مستحکم قرار دیا اور نئے عراقی وزیر اعظم کو مبارکباد دی۔
یہ بھی پڑھیں : اربعین زائرین کے لیے اہم ہدایت، 6 ماہ سے کم مدت والا پاسپورٹ تبدیل کروائیں
اسماعیل باغائی نے زور دیا کہ ایران کی سفارت کاری ہوشیار اور محتاط ہے۔ ہم کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کی کسی بھی حماقت کا بھرپور جواب دیں گے۔


