امریکی نشریہ اٹلانٹک نے رابرٹ کاگن کے مضمون میں تسلیم کیا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ وہ یہ بات کریں کہ ان کے پاس "کارڈز” کیا ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ ان کے پاس اچھے کارڈز ہیں بھی یا نہیں۔
37 دن تک امریکہ اور اسرائیل کی شدید حملوں کے باوجود ایران کی حکومت نہ گر سکی اور نہ ہی اسے کوئی چھوٹا سا بھی امتیاز دینے پر مجبور کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فوجیوں کو غزہ میں ہر مرد کو دیکھتے ہی مارنے کا حکم دیا گیا: اسرائیلی ٹی وی رپورٹ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے حملے اس لیے روکے کہ ایران نے علاقائی توانائی تنصیبات پر جوابی حملے کیے۔ 18 مارچ کو اسرائیل کے پارس جنوبی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے قطر کے راس لفان تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ٹرمپ نے بغیر کسی امتیاز کے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اگر چاہے تو ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے اور یہ اس کی طاقت کو مزید بڑھا دے گا۔ اسرائیل اس صورتحال میں مزید تنہا ہو جائے گا۔
امریکہ کی ناکامی سے عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور دنیا اب امریکہ کے بعد کی دنیا کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں نہیں آئے گا اور اپنے اصولوں پر قائم رہے گا۔


