پشاور: گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں 514 ڈگریاں مشکوک پائی گئی ہیں جن کی منسوخی کی سفارش کر دی گئی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے اس معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے سابق ڈائریکٹر افیلی ایشن کو معطل کر دیا ہے۔ جعلی ڈگریوں کے کیس میں ملوث سابق کنٹرولر امتحانات کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی آئی اے کی 12 ملکی و غیر ملکی پراپرٹیز فروخت، تفصیلات سامنے آگئیں
ذرائع کے مطابق یہ مبینہ کرپشن اور جعلی ڈگریوں کا نیٹ ورک سال 2019 سے 2023 کے درمیان فعال رہا۔ صوبائی حکومت نے اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک بااختیار تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم مینا آفریدی نے کہا کہ گومل یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے بھر میں بلاامتیاز احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جعلی ڈگری مافیا سے پاک کیا جائے گا اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کا سخت احتساب ہوگا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشکوک ڈگریوں کی منسوخی کے ساتھ ساتھ ملوث افسران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔


