اسرائیلی تعمیراتی شعبے کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 2026 کے پہلے چار مہینوں میں 270 سے زائد کمپنیاں دیوالیہ ہو گئیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق شعبہ شدید مالی دباؤ، مزدوروں کی کمی اور بڑھتی ہوئی لاگت کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں اسرائیلی قبضہ وسیع، سیز فائر بھی فلسطینیوں کو تحفظ نہ دے سکا
Contractors and Builders Association of Israel کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 800 سے زائد کمپنیاں بند ہو چکی تھیں۔ شعبے کے عہدیداروں نے خبردار کیا کہ یہ عارضی نہیں بلکہ جاری بحران ہے جو پوری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔
اہم وجوہات میں بلند سود کی شرح، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور حکومت کی طرف سے ادائیگیوں میں تاخیر شامل ہیں۔ جنگ کے بعد فلسطینی مزدوروں کی عدم دستیابی نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔


