غزہ کی پٹی میں جبری انخلا کوئی محدود فوجی اقدام نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی مکمل تباہی اور مسلسل نقل مکانی کی ایک منظم پالیسی بن چکا ہے۔
قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے رہائشی علاقوں پر بمباری سے قبل جاری کیے جانے والے انخلا کے احکامات فلسطینیوں کو بار بار بے گھر کر رہے ہیں اور ان کی نفسیاتی و سماجی حالت کو تباہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ کا محاصرہ مزید سخت، اسرائیلی رکاوٹوں میں اضافہ
انسانی حقوق کے مرکز اطلاعات فلسطین نے بتایا کہ یہ انخلا کے احکامات بڑے پیمانے پر تباہی اور اجتماعی ہراساں کرنے کا حربہ ہیں۔ تجزیہ کار عماد زقوت نے کہا کہ یہ پالیسی غزہ کو ناقابل رہائش بنانے اور فلسطینیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی صیہونی سازش کا حصہ ہے۔
غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہر انخلا کے بعد زندگی دوبارہ شروع کرنا ایک اذیت بن چکا ہے اور استحکام کا احساس ختم ہو چکا ہے۔


