اسکار ایوارڈ یافتہ ہسپانوی اداکار جاویر باردیم نے کہا ہے کہ غزہ پر جاری صیہونی جنگ کے حوالے سے ہالی ووڈ میں عوامی بحث اور narrative اب پہلے کی طرح کنٹرول میں نہیں رہا۔
کینز فلم فیسٹیول کے موقع پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے باردیم نے بتایا کہ غزہ پر صیہونی جارحیت کی مذمت اور فلسطین کی آزادی کی حمایت کرنے کے باوجود انہیں اب بھی کام کے اچھے آفرز مل رہے ہیں۔
اس سال اکیڈمی ایوارڈز تقریب میں بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کا ایوارڈ دیتے ہوئے جاویر باردیم نے کھل کر کہا تھا: "جنگ کا نہیں، فلسطین آزاد ہو۔” انہوں نے کہا کہ اب لوگ ان سے زیادہ رابطہ کر رہے ہیں کیونکہ غزہ کی حقیقت سامنے آ رہی ہے۔
آئرش-اسکاٹیش اسکرین رائٹر پال لاوریٹی، جو اس سال کینز جوری میں شامل ہیں، نے الزام لگایا کہ ہالی ووڈ میں سوزن سارنڈن، جاویر باردیم اور مارک روفالو جیسے فنکاروں کو فلسطین کی حمایت کی وجہ سے بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غاصب صیہونی دہشت گردوں نے غزہ جانے والے عالمی فلوٹیلا کو ہائی جیک کر لیا، ایکٹیوسٹس پر وحشیانہ حملہ
باردیم نے کہا کہ اب جو لوگ نسل کشی کی حمایت یا جواز پیش کرتے ہیں، ان کے خلاف معاشرے میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے ستمبر میں واضح کیا تھا کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے۔


