بیروت – عالمی ادارہ یونیسیف نے لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور مسلسل تشدد کے باعث بچوں کی نفسیاتی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادارے نے بتایا کہ لبنان میں 7 لاکھ 70 ہزار بچے شدید ذہنی دباؤ، خوف، مایوسی اور بے خوابی جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچے نہ صرف براہ راست تشدد کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ خاندانی جدائی، بار بار نقل مکانی اور گھر چھوڑنے کی تکلیف دہ صورتحال بھی ان کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
17 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات جاری ہیں۔ یونیسیف کے مطابق جنگ بندی کے بعد 23 بچے شہید اور 93 زخمی ہو چکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا کہ اگر متاثرہ بچوں کو فوری نفسیاتی اور سماجی مدد نہ دی گئی تو یہ بحران ان کے ساتھ زندگی بھر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ورلڈ سنٹرل کچن کی غزہ میں جزوی بندش، انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک 200 بچے شہید اور 806 زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسیف نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور فوری طور پر مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے۔


