صہیونی جیلوں میں کمسن فلسطینی اسیران کی تنہائی قید میں ہولناک اضافہ ہوا ہے۔
ایسوسی ایشن برائے ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں تنہائی قید میں صرف 1 کمسن اسیر تھا جو 2023 میں بڑھ کر 50 ہو گیا اور 2024 میں یہ تعداد 290 تک پہنچ گئی۔
بالغ فلسطینی اسیران کی تنہائی قید میں رکھی جانے والی تعداد بھی 2024 میں تین گنا بڑھ کر 4493 ہو گئی جبکہ اسیرات کی تعداد 2 سے بڑھ کر 25 ہو گئی۔
تنہائی قید کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: تادیبی تنہائی (14 دن تک) اور روک تھام والی تنہائی (چھ ماہ تک)۔
ماہرین کے مطابق تنہائی قید شدید نفسیاتی اور جسمانی نقصان کا باعث بنتی ہے جس میں خودکشی کے خیالات، یادداشت کے مسائل، وہم اور بے چینی شامل ہیں۔
ایسوسی ایشن کے عناغ بن درور نے کہا کہ تنہائی قید اب ایک معمول کا ہتھیار بن چکا ہے جو کمسن بچوں اور خواتین کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 200 بچے شہید، یونیسف کا شدید انتباہ
یہ اضافہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی اسیران پر اسرائیلی جارحیت کا حصہ ہے۔


