اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارے (UNRWA) نے غزہ اور مقبوضہ القدس سے لاکھوں اہم تاریخی دستاویزات کو بچانے کے لیے 10 ماہ تک جاری خفیہ اور خطرناک آپریشن کامیاب کر لیا ہے۔
دی گارڈین کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ دستاویزات 1948 کی نکبہ (بڑی تباہی) کی اصل رجسٹریشن کارڈز، پیدائشی سرٹیفکیٹس، شادی کے ریکارڈز اور جبری نقل مکانی کی گواہیوں پر مشتمل ہیں۔
اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد UNRWA نے ان دستاویزات کو بمباری سے بچانے کے لیے غزہ شہر کے کمپاؤنڈ سے جنوبی غزہ (رفح) منتقل کیا۔ پھر مصر کے راستے اردن پہنچایا گیا۔ یہ آپریشن اسرائیلی فوج کے غزہ میں داخل ہونے سے صرف چند ہفتے پہلے مکمل ہوا۔
UNRWA کے سینئر عہدیداروں نے بتایا کہ دستاویزات کو بچانا انتہائی اہم تھا کیونکہ ان کی تباہی فلسطینی تاریخ کے ثبوت کو ہمیشہ کے لیے مٹا سکتی تھی۔
القدس کے دستاویزات بھی بچائے گئے
UNRWA نے مقبوضہ مشرقی القدس کے کمپاؤنڈ سے بھی دستاویزات کو خفیہ طور پر اردن منتقل کیا۔ اسرائیلی دباؤ اور حملوں کے باعث یہ دستاویزات بھی شدید خطرے میں تھے۔
اردن میں ڈیجیٹائزیشن کا بڑا پروجیکٹ
اردن کے دارالحکومت عمان میں UNRWA نے لگ بھگ 30 ملین دستاویزات کو ڈیجیٹائز کرنے کا بڑا کام شروع کر دیا ہے۔ اس سے فلسطینی پناہ گزین اپنے خاندانی ریکارڈز دیکھ سکیں گے اور اپنی جڑوں کا پتہ لگا سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات فلسطینی قوم کے لیے قومی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ فلسطینی ریاست نہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس متحدہ قومی آرکائیوز نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے مورٹر حملے میں اسرائیلی فوجی ہلاک، جانی نقصان 19 ہو گیا
یہ آپریشن اسرائیلی جارحیت کے باوجود UNRWA کی جانب سے فلسطینی تاریخ اور شناخت کو بچانے کی ایک قابل ذکر کوشش ہے۔


