ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ دشمن کی کھلی اور خفیہ سرگرمیاں ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ نئی جنگ اور ماجراجویی کی تیاری کر رہا ہے۔
بدھ کو ایرانی عوام کے نام جاری کردہ تیسری آڈیو پیغام میں قالیباف نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود دشمن نے اپنے فوجی اہداف نہیں چھوڑے ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ امریکہ ایک اسٹریٹجک بحران میں پھنس چکا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ، بانڈ مارکیٹ کا انتشار، سود کی شرحیں اور مہنگائی نے امریکہ میں عوامی ناراضگی پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ کے اپنے حامی بھی اس جنگ کو اسرائیل کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا نیا دعویٰ: ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ دو راستوں میں الجھا ہوا ہے، یا تو جنگ ختم کر کے ہار مان لے یا پھر دوبارہ جنگ شروع کر کے ایران پر دباؤ ڈالے۔
قالیباف نے عوام سے مطالبہ کیا کہ فوجی تیاری اور معاشی خود کفالت کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ دشمن کی غلط فہمیوں کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اپنی صلاحیتوں کو مزید بڑھا لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ جنگ میں فتح حاصل ہوئی تو ایران عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت بن جائے گا۔


