فلسطینی سابق وزیر خارجہ ناصر القدوہ نے تحریک فتح کی موجودہ قیادت پر سنگین الزام لگایا ہے کہ انہوں نے تحریک کو اس کے اصل نظریے سے دور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتح کے اندر جاری بحران کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ 15 سال سے زائد عرصے سے جاری زوال کا نتیجہ ہے۔
ناصر القدوہ نے کہا کہ تحریک فتح قابض صیہونی دشمن کے خلاف قومی جدوجہد کی قیادت کرنے کے اپنے تاریخی کردار سے دور ہو چکی ہے۔ انہوں نے محمود عباس کی قیادت پر الزام لگایا کہ انہوں نے تحریک اور فلسطینی اتھارٹی دونوں پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف امریکی جنگی حکمت عملی کی ناکامی کیسے ہوئی؟ ٹرمپ سیاسی بحران کا شکار
انہوں نے سکیورٹی کوآرڈینیشن کو قابض دشمن کے ساتھ تعاون کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ موجودہ قیادت صرف ذاتی مفادات اور مال و دولت کے تحفظ میں مصروف ہے۔
ناصر القدوہ نے فلسطینی سیاسی بیانیے کو نئے سرے سے مرتب کرنے اور حقیقی آزادی کے حصول کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔


