لبنان میں چرچ پر حملہ: کیتھولک چیریٹی کی جانب سے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت

جنوبی لبنان کے گاؤں یارون میں تباہ شدہ چرچ اور خانقاہ کا دلخراش منظر

لبنان میں چرچ پر حملہ: کیتھولک چیریٹی کی جانب سے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک معروف کیتھولک فلاحی تنظیم نے اسرائیل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے کیونکہ اس کی افواج نے جنوبی لبنان میں ایک تاریخی خانقاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ تنظیم نے اسے عبادت گاہ پر ایک "دانستہ حملہ” قرار دیا ہے، جس نے خطے میں اقلیتوں اور مذہبی مقامات کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لبنان میں چرچ پر حملہ اب ایک عالمی سطح پر زیرِ بحث مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

فرانسیسی تنظیم کا ردعمل اور تباہی کی تفصیلات

فرانسیسی تنظیم L’Oeuvre d’Orient (جو مشرقی عیسائیوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہے) نے جمعہ کے روز ایک باضابطہ بیان جاری کیا۔ بیان میں تصدیق کی گئی کہ اسرائیلی فوجیوں نے لبنان کے سرحدی گاؤں یارون (Yaroun) میں "سیلویٹورین سسٹرز” (Salvatorian Sisters) نامی ایک یونانی کیتھولک مذہبی تنظیم کی خانقاہ کو مسمار کر دیا ہے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا:

"ہم عبادت گاہ کے خلاف اس دانستہ تخریب کاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، جنوبی لبنان میں گھروں کو منظم طریقے سے گرانے کے عمل کو بھی مسترد کرتے ہیں، جس کا واضح مقصد شہری آبادی کو ان کے گھروں میں واپس آنے سے روکنا ہے۔”

مسیحی ورثے پر حملوں کا تسلسل

یہ حالیہ لبنان میں چرچ پر حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ مسیحی تاریخی ورثے پر ہونے والے منظم حملوں کے ایک وسیع تر سلسلے کی کڑی ہے۔ فرانسیسی چیریٹی نے یاد دہانی کرائی کہ اس سے قبل 2024 کی جنگ کے دوران بھی لبنان کے عیسائی مقدسات کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطین اسرائیل جنگ بندی: فلسطینی دھڑوں کا ریاست کے بدلے اسلحہ چھوڑنے کا بڑا مطالبہ

ان نقصانات میں یارون اور دردغایہ (Derdghaya) کے دیہاتوں میں واقع ملکائٹ گرجا گھروں (Melkite churches) کی تباہی شامل ہے، جو باقاعدہ طور پر لبنان کے تاریخی و ثقافتی ورثے کا حصہ تسلیم کیے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ، رواں سال اپریل میں ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس نے دنیا بھر کی مسیحی برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ اس ویڈیو میں ایک اسرائیلی فوجی کو جنوبی لبنان میں ہتھوڑے (jackhammer) کی مدد سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (Jesus on a cross) کے ایک مجسمے کی بے حرمتی کرتے اور اسے توڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

مقبوضہ یروشلم میں مسیحی برادری پر بڑھتا ہوا تشدد

مشرق وسطیٰ میں صرف لبنان ہی نہیں، بلکہ پورے خطے میں مسیحی برادری اور ان کے مقاماتِ مقدسہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ مشرقی یروشلم میں بھی تشدد کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

  • راہبہ پر جسمانی حملہ: رواں ہفتے کے آغاز میں ماؤنٹ صیہون (Mount Zion) پر واقع سیناکل کے قریب ایک 48 سالہ محقق راہبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چہرے پر شدید چوٹیں آنے کے بعد انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

  • مذہبی رسومات پر پابندی: گزشتہ ماہ، اسرائیلی پولیس نے یروشلم کے لاطینی پیٹریاک، کارڈینل پیئربٹسٹا پیزابالا، اور دیگر پادریوں کو ‘چرچ آف دی ہولی سیپلکر’ (Church of the Holy Sepulchre) میں پام سنڈے (Palm Sunday) کی دعائیہ تقریب منعقد کرنے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں سخت بین الاقوامی دباؤ کے بعد انہیں جزوی رسائی دی گئی۔

روسنگ سینٹر کی رپورٹ: 2025 کے ہوشربا اعداد و شمار

حال ہی میں، روسنگ سینٹر فار ایجوکیشن اینڈ ڈائیلاگ (Rossing Centre for Education and Dialogue) نے مسیحیوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسیحیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر جارحیت کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 155 انتہائی سنگین نوعیت کے واقعات درج کیے گئے:

  • 61 جسمانی حملے اور تشدد کے کیسز۔

  • 52 گرجا گھروں اور چرچ کی املاک پر حملے۔

  • 28 ہراساں کرنے کے مختلف واقعات۔

  • 14 چرچ کے سائن بورڈز کو توڑنے کے کیسز۔

رپورٹ مرتب کرنے والوں کا ماننا ہے کہ یہ اعداد و شمار محض "برف کے تودے کی چوٹی” (tip of the iceberg) ہیں، یعنی اصل میں ہونے والے حملوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج کا موقف اور جنگ بندی کے باوجود جانی نقصان

ہفتے کے روز یارون میں ہونے والے تازہ ترین حملے کے بعد، اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ فوج نے اعتراف کیا کہ ان کی کارروائی کے دوران ایک "مذہبی عمارت” کو نقصان پہنچا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ آپریشن اس علاقے میں موجود مخصوص انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 17 اپریل کو چھ ہفتوں کی مسلسل جنگ کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔

لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (NNA) نے ہفتے کے روز اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2 مارچ سے 2 مئی 2026 کے درمیان اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 2,659 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 8,183 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ:

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو لبنان میں چرچ پر حملہ اور عام شہریوں کے خلاف جاری اس جارحیت کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی ورثے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ریلیٹڈ پوسٹس

TheVoiceOfUmmah.com ایک آزاد عالمی میڈیا پلیٹ فارم ہے جو مسلم دنیا پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
ہم غزہ، ایران، لبنان، پاکستان اور دیگر خطوں سے متعلق خبریں، تجزیے اور تفصیلی مضامین واضح، ذمہ دارانہ اور متوازن انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد آگاہی دینا، شعور بیدار کرنا اور دنیا بھر کی مسلم امت سے متعلق مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دینا ہے، اور ہم سچائی اور اعتماد کو اپنی ترجیح بناتے ہیں۔

Copyright © 2026 by The Voice Of Ummah. All rights reserved