مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت طے پانے کے باوجود جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
اس معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں بالخصوص لبنان میں فوری اور دائمی جنگ بندی کا عہد کیا گیا تھا، مگر صہیونی فورسز کی سرحدی پیش قدمی اور خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں سادہ لباس پولیس اہلکار نے ڈکیتی کی واردات ناکام بنادی
ماہرین کے مطابق یہ خلاف ورزیاں ایران کے لیے نئی علاقائی سکیورٹی حکمت عملی مرتب کرنے کا موقع بھی ہیں۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے پریشر لیورز، جوہری فائل میں لچک اور مقاومتی محاذ کی حمایت سمیت متعدد آپشنز موجود ہیں۔
ایرانی فیصلہ سازوں کا ماننا ہے کہ جنوبی لبنان سے صہیونی انخلا اور جنگ بندی کا مکمل نفاذ ایران کی سرخ لکیر ہے۔


