غزہ کے انسانی حقوق مرکز نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی رجیم کی وحشیانہ جارحیت کے دوران غزہ میں بچوں کی پیدائش میں خوفناک اور غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔
مرکز کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں شرح پیدائش میں مسلسل زبردست کمی دیکھی جا رہی ہے، جو نسل کشی کے جرم کا ایک خطرناک پہلو ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حماس: غزہ میں پیلی لائن ہٹانا جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہے
اپریل 2026 میں صرف 2004 بچے زندہ پیدا ہوئے جو نومبر 2025 کے مقابلے میں 67 فیصد کمی ہے۔ اسقاط حمل کے واقعات میں بھی 225 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مرکز نے اسے فلسطینی معاشرے کی حیاتیاتی صلاحیت کو مٹانے کی صہیونی پالیسی قرار دیا۔
مرکز نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں بچوں کی پیدائش روکنے کی اس منظم پالیسی کی آزاد تحقیقات کی جائیں۔


