آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ ان ممالک میں قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، ترکی، مصر، انڈونیشیا، پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں۔
ان وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی حفاظت میں ہونے والے یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے تاریخی و قانونی درجے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : "ایران کا دعویٰ، امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا، واشنگٹن سے مذاکرات دوبارہ شروع”
وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس اور اس کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کے تاریخی و قانونی status quo کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا اور مسجد اقصیٰ کمپلیکس پر اردن کی تاریخی سرپرستی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ صرف مسلمانوں کا عبادت گاہ ہے اور اسرائیلی حکام کو آباد کاروں کے فوجی تحفظ میں بڑھتے ہوئے خلاف ورزیوں کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔
طویل عرصے سے قائم status quo کے تحت مسجد اقصیٰ کے اندرونی امور اسلامی وقف کے پاس ہیں جبکہ بیرونی سیکیورٹی اسرائیل کے پاس ہے۔ غیر مسلم صرف مخصوص اوقات میں وہاں جا سکتے ہیں لیکن نماز ادا نہیں کر سکتے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام مبینہ طور پر اردن سے مسجد اقصیٰ کی سرپرستی چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جارڈن کی حمایت یافتہ اسلامی وقف کا خاتمہ کر کے ایک نئی باڈی بنائی جائے گی جو اسے ملٹی فیث سینٹر قرار دے گی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس کی تردید کی ہے مگر اردن کی سرپرستی کی تصدیق نہیں کی۔


