سڈنی یونیورسٹی کے لیکچرار مارٹن کیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے خود کو ایک سیاسی تضاد میں پھنسا لیا ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو تباہ کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ ان کی فوجی حکمت عملی کبھی بھی اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔
کئی دہائیوں سے اسرائیلی حکومتوں نے جسے فوجی منصوبہ ساز "گھاس کاٹنا” کہتے ہیں، اس حکمت عملی پر عمل کیا ہے۔ یہ بڑے پیمانے کے آپریشنز مزاحمتی تحریکوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور وقت خریدنے کے لیے ہوتے ہیں۔ منطق ہمیشہ انتظام کی رہی ہے، خاتمے کی نہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ نے لبنان میں مقامی ڈرون سازی کی ویڈیو جاری کر دی
کیر کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے اب اس فریم ورک کو عوامی طور پر چھوڑ دیا ہے اور مزاحمت کو روکنے کی بجائے اس کے مکمل خاتمے کا وعدہ کر بیٹھے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق یہ وعدہ ساختاً پورا کرنا ناممکن ہے کیونکہ حزب اللہ محض ایک فوجی طاقت نہیں بلکہ لبنان کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچے میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ کوئی بھی فضائی مہم یا زمینی کارروائی اسے جڑ سے اکھاڑ نہیں سکتی۔
مارچ کے شروع سے اسرائیل نے 2600 سے زائد لبنانیوں کو شہید کر دیا ہے اور 12 لاکھ سے زائد کو بے گھر کیا ہے۔ لیتانی دریا کے پل تباہ کر دیے گئے اور جنوبی لبنان کے دیہاتوں کو منظم طریقے سے مسمار کیا جا رہا ہے تاکہ ایک سلامتی بفر زون قائم کیا جا سکے۔ اسرائیلی جنگ وزیر اسرائیل کاٹز نے واضح طور پر رفح اور بیت حانون کو مثال قرار دیا۔
کیر اسے غزہ میں اپنائی گئی منطق قرار دیتے ہیں جس کا مقصد علاقے کو غیر آباد بنانا ہے نہ کہ کوئی واضح فوجی ہدف حاصل کرنا۔ ان کے مطابق یہ بفر زون اتنا ہی زیادہ اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے ہے جتنا کہ سلامتی کے لیے۔ یہ نیتن یاہو کو عزم کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیتا ہے جبکہ "کام ختم کرنے” کا اصل مطلب ٹال دیا جاتا ہے


