وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا کم از کم دو بار خفیہ دورہ کیا۔
ان دوروں کا مقصد متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور سلامتی تعاون کو ہم آہنگ کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم سسٹم اور فوجی اہلکار بھیجے تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے خلاف خفیہ حملے کیے جن میں لاوان جزیرے پر ریفائنری پر حملہ شامل ہے۔
ایرانی حکام نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی غلامی چھوڑ دے ورنہ اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لاپیڈ کا کنیسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ، نیتن یاہو کو نقصان پہنچانے کا الزام
ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات غلط راستے پر چل رہا ہے اور ایران اس علاقے میں UAE اسرائیل محور کی تشکیل کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایران اپنے مفادات کی مکمل حفاظت کرے گا۔


