لولا کا خبردار: ایران پر جنگ ٹرمپ کے سوچ سے زیادہ نقصان پہنچائے گی
برازیلی صدر لولا دا سلوا نے کہا ہے کہ ایران پر جنگ ٹرمپ کے اندازے سے کہیں زیادہ نقصان پہنچائے گی۔
واشنگٹن میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لولا نے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ ٹرمپ اس جنگ کے ممکنہ نتائج کو پوری طرح سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ ایران پر حملہ ٹرمپ کے سوچ سے زیادہ نقصان پہنچائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایران کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔
لولا نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سیکیورٹی اور تجارت سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی، مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ٹرمپ کی ایران پالیسی تبدیل نہیں کر سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ "ٹرمپ تین گھنٹے کی میری ملاقات کی وجہ سے اپنا رویہ نہیں بدلیں گے۔”
یہ بھی پڑھیں : سی آئی اے رپورٹ: ایران کے پاس 70 فیصد میزائل باقی، ناکہ بندی مہینوں تک برداشت کر سکتا ہے
لولا نے ایران جنگ حل کرنے کے لیے مذاکراتی کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی اور برازیل کی جانب سے گفت و شنید کے ذریعے حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے ٹرمپ کو 2010 میں برازیل اور ترکیہ کے توسط سے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی کاپی بھی دی اور کہا کہ یہ معاہدہ بعد میں امریکہ اور یورپی ممالک کے معاہدوں سے کہیں بہتر تھا۔
ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر ملاقات کے بارے میں لکھا کہ لولا کے ساتھ بات چیت بہت اچھی رہی اور دونوں فریق اگلے مہینوں میں بات چیت جاری رکھیں گے۔


