ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن حجت الاسلام سید محمود نبویان نے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور باقر قالیباف کے مذاکراتی انداز کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی ملاقات میں جے ڈی وینس نے امریکہ کے دو اہم مطالبات پیش کیے جن میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا اور ایران سے تمام 60 فیصد افزودہ مواد کی واپسی شامل تھی۔
نبویان نے کہا کہ ایرانی وفد نے پابندیوں کے خاتمے اور افزودگی کے حقوق پر زور دیا۔ قالیباف نے واضح کیا کہ ہمارے پاس حل کرنے کے لیے ایک نہیں بلکہ چار مسائل ہیں۔
انہوں نے قالیباف اور پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے درمیان ملاقات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ قالیباف کی موجودگی مذاکرات میں بہت مؤثر ثابت ہوئی۔
نبویان نے بتایا کہ جب وینس نے ایران کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تو قالیباف نے جواب دیا کہ ایران بھی خطے کے تمام انفراسٹرکچر کو آدھے دن سے کم وقت میں تباہ کر سکتا ہے۔
دوسرے اجلاس میں دونوں فریقوں نے چار محوروں پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا۔ امریکیوں نے منجمد اثاثوں سے 6 ارب ڈالر کی رہائی کی تجویز دی لیکن قالیباف نے کہا کہ ایرانی قوم کا پیسہ ایک ڈالر ہو یا 100 ارب ڈالر، یہ ہمارا ہے اور کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : شادگان شہر میں 7 سڑکوں کی تعمیراتی منصوبوں کا آغاز
تیسرے اجلاس میں وینس نے ٹرمپ کے ساتھ کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ امریکی منصوبے کے مطابق ہوگا۔ قالیباف نے واضح کیا کہ یہ ان کا اپنا منصوبہ ہے۔
نبویان نے زور دیا کہ قالیباف نے دھمکیوں کے سامنے مذاکرات کے راستے کو نہیں بدلنے دیا اور ایران کے قومی مفادات کی مکمل حفاظت کی۔


