غزہ کے مشہور ڈاکٹر حسام ابو صفیہ، جو شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ہیں، 18 ماہ قبل اسرائیلی قابض افواج نے ہسپتال کے سامنے گرفتار کیا تھا۔ اب وہ صہیونی جیلوں میں منظم بھوک، طبی سہولیات سے محرومی اور اپنے خاندان سے رابطے کی ناممکن حالت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے بیٹے الیاس ابو صفیہ نے بتایا کہ ان کے والد جیل میں تباہ کن صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ انہیں منظم طور پر بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی جسمانی حالت شدید خراب ہو چکی ہے کیونکہ ان کے تمام طبی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔
الیاس ابو صفیہ نے کہا کہ بین الاقوامی دباؤ کے بعد اسرائیلی حکام نے ان کے والد کو 90 دن تک وکیل سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔ خاندان ان کی حالت کی وجہ سے مسلسل فکر مند رہتا ہے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے جنگ کے دوران شمالی غزہ میں بچوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔ وہ ہسپتال چھوڑنے سے انکار کرتے رہے اور اسرائیلی ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہوئے۔ ان کے بیٹے ابراہیم کو بھی ایک حملے میں شہید کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی نئی مہم: وینزویلا کے جغرافیائی نقشے کی اشاعت امریکی پرچم کے ساتھ
ان کے وکیل اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بتاتی ہیں کہ ڈاکٹر ابو صفیہ سمیت 375 طبی عملے کے ارکان کو بغیر کسی الزام کے "غیر قانونی جنگجو” کے زمرے میں قید رکھا گیا ہے۔


