پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسرائیلی وزیر اعظم بِن یامین نیتن یاہو کو “وحشت کا مجسمہ” اور “انسانیت کے لیے شرم کا باعث” قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیلی فوجیوں، جیلرز اور یہاں تک کہ کتوں کے ذریعے فلسطینی قیدیوں (خواتین، مردوں اور بچوں) کے ساتھ ریپ اور جنسی تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چینی صدر کا ٹرمپ کو سخت پیغام: تائیوان پر مداخلت جنگ کا باعث بن سکتی ہے
خواجہ آصف نے اپنے X اکاؤنٹ پر لکھا: “دیکھ لو کون بات کر رہا ہے! ایک ایسا وحشی جو فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ریپ کو سرپرستی اور فروغ دے رہا ہے۔ انسانیت سر جھکا کر شرم سے مر رہی ہے۔”
یہ شدید ردعمل نیتن یاہو کے پاکستان پر الزامات کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ اسرائیل مخالف مہم چلا رہا ہے اور ایرانی فوجی طیاروں کو پناہ دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسیسکا البانیز نے بھی اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر بے مثال تشدد، جنسی تشدد اور ریپ کی رپورٹ پیش کی تھی۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 9300 سے زائد فلسطینی قیدی ہیں جن میں 350 بچے بھی شامل ہیں۔
وزیر دفاع نے نیتن یاہو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو خود انسانیت کے خلاف ایسے سنگین جرائم کا مرتکب ہے، وہ دوسروں پر الزام لگانے کا حق نہیں رکھتا۔
نیتن یاہو فی الحال بدعنوانی کے مقدمے میں ملوث ہیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) ان کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے۔


