اسرائیل نیوز کے مطابق حزب اللہ کے ڈرونز اسرائیلی فوج کی آپریشنل صلاحیت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے الما ریسرچ اینڈ ایجوکیشن سینٹر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے نئے تنازعے کے آغاز کے بعد چھوٹے چار پروپیلر والے ڈرونز، خاص طور پر فائبر آپٹک گائیڈڈ ڈرون، حزب اللہ کے میدان جنگ میں سب سے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے لکھا کہ 80 سے زائد ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں جن میں سے تقریباً 15 ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان حملوں میں کئی فوجی اور ایک شہری ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔
یہ ڈرون سستے اور چھوٹے ہوتے ہیں اور انہیں پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بہت کم بلندی سے یا شہری علاقوں اور حتیٰ کہ زیر زمین مقامات سے بھی لانچ کیے جا سکتے ہیں۔
ان کی اہم خصوصیت فائبر آپٹک ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جو الیکٹرانک وارفیئر اور ریڈار جیمنگ کو تقریباً غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ ان کا ریڈار اور حرارتی سگنل بھی بہت کم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہرمز میں خلل کے نتائج: دنیا کے تیل کے ذخائر تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ پہلے جاسوسی ڈرونز سے ہدف تلاش کرتا ہے اور پھر درست حملوں کے لیے دھماکہ خیز ڈرونز استعمال کرتا ہے۔ یہ طریقہ یوکرین جنگ کے تجربات سے لیا گیا ہے۔
اسرائیل اب بھی ان ڈرونز کا مؤثر جواب تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ اگر یہ خلا فوری طور پر پورا نہ کیا گیا تو سستے ڈرونز اسرائیلی فوج کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔


