جنگ سے فائدہ، طویل مدتی نقصان: وال اسٹریٹ کا بنیادی کاروبار خطرے میں
وال اسٹریٹ امریکہ اور اسرائیل کی ایران جنگ سے قلیل مدتی فائدہ اٹھا رہا ہے مگر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے حاصل ہونے والا مختصر فائدہ ڈیل میکنگ کو سست کر رہا ہے جو اس کے بنیادی کاروبار کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں نے مشرق وسطیٰ آئی کو بتایا کہ چند دنوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے ٹریڈنگ ریونیو بڑھا اور توانائی سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا۔ دفاعی کمپنیوں کے شیئرز بھی فوجی اخراجات میں اضافے کی توقع پر چڑھے جبکہ بینکوں نے ہنگامی صورتحال میں ٹریڈنگ آمدنی میں اضافہ رپورٹ کیا۔
ماہرین نے کہا کہ یہ فائدہ اصل میں بنیادی کمزوری کو چھپا رہا ہے۔ وال اسٹریٹ کی پہلی سہ ماہی آمدنی اچھی لگ رہی ہے مگر یہ زیادہ تر 28 فروری سے پہلے طے پانے والے معاہدوں کی وجہ سے ہے اور جنگ کا ڈیل میکنگ پر اثر اب سامنے آ رہا ہے۔
تجزیہ کار ایلیا اسپویک نے کہا کہ وال اسٹریٹ کو ایران جنگ سے جتنا فائدہ نظر آ رہا ہے، حقیقت میں اتنا نہیں ہے۔
وال اسٹریٹ کے ایگزیکٹوز نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ لین دین کو پیچیدہ بنا رہی ہے، آئی پی او کو تاخیر کا سامنا ہے اور انضمام، حصول اور نئی اسٹاک لسٹنگ کی پائپ لائن خطرے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی کوشش پھر ناکام، روس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد مسترد کر دی
جنگ شروع ہونے کے پہلے دن برینٹ کروڈ میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا جس سے ایکسن موبائل اور شیورون جیسی بڑی تیل کمپنیوں کو فائدہ ہوا۔
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے ٹریڈنگ سرگرمی بڑھی اور گولڈمین سیکس نے انویسٹمنٹ بینکنگ فیس میں 48 فیصد اضافہ رپورٹ کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹریڈنگ آمدنی ڈیل میکنگ کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ٹریڈنگ زیادہ انفراسٹرکچر پر منحصر ہے اور اس کے مارجن کم ہیں۔
ایران جنگ نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس سے ریسیشن کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔


