تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف ریفائنریز، گاڑیوں اور حکومتی بجٹ کا معاملہ نہیں ہے۔ جب تیل مہنگا ہو جاتا ہے تو ڈیجیٹل معیشت میں اخراجات کی ایک لمبی زنجیر متحرک ہو جاتی ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، مغربی ایشیا میں حالیہ جنگ اور امریکہ اسرائیل کی ایران پر جارحیت نے ایک اہم حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی صنعت توانائی، نقل و حمل، خام مال اور جغرافیائی سیاسی استحکام پر گہرا انحصار رکھتی ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں پابندیاں اور تیل کی سپلائی میں خلل نے مارکیٹ کو انتہائی غیر مستحکم بنا دیا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی توانائی کی بنیاد پر قائم ہے۔ ڈیٹا سینٹرز، چپ فیکٹریاں، کلاؤڈ نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کو سستی اور مستحکم بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
چپ انڈسٹری توانائی کے جھٹکوں کے لیے سب سے زیادہ حساس ہے۔ بجلی، پانی، صنعتی گیسیں اور کیمیکلز کی لاگت میں اضافہ براہ راست چپ کی پیداوار کو مہنگا کر دیتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی بھی سستی بجلی اور بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ پر منحصر ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر جانے پر ڈیٹا سینٹرز، چپ مینوفیکچرنگ اور AI سرمایہ کاری سب متاثر ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی اہم ترین گزرگاہ ہے۔ اس میں خلل ایشیا کی چپ اور الیکٹرانکس انڈسٹری کی لاگت کو بھی بڑھا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پیزشکیان: کھیلوں کی سہولیات پر حملے ایرانی قوم کی عزت کے خلاف دشمنی ہیں
نتیجہ یہ ہے کہ تیل کا جھٹکا انٹرنیٹ، موبائل فونز، کلاؤڈ سروسز اور ڈیجیٹل کاروبار کی قیمتوں میں بھی نظر آتا ہے۔ ایران کی جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ٹیکنالوجی جغرافیائی سیاست سے الگ نہیں رہ سکتی۔


