ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باغری کنی نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ایران پر جنگ دراصل عالمی جنوب پر حملے کی تمہید تھی۔
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سیکیورٹی کونسل سیکرٹریز کے 21ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باغری کنی نے کہا کہ “طاقت سے امن” کی پالیسی 21ویں صدی کا سب سے بڑا خطرہ ہے جو بات چیت کی جگہ جبر اور اطاعت کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ توسیع پسندانہ اور سامراجی نوعیت کی ہے جس کا مقصد ایشیا کی ترقی روکنا اور خلیج فارس کے توانائی وسائل پر مکمل قبضہ کرنا ہے تاکہ درمیانہ طاقتوں کا ابھرنا روکا جا سکے۔
باغری کنی نے خبردار کیا کہ اگرچہ جنگ ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی مگر اس کے اثرات ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ “کمزور ردعمل مزید جنگ کی دعوت ہے”۔
انہوں نے SCO اور برکس کے اندر تعاون بڑھانے، فوری ردعمل کا طریقہ کار بنانے اور اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کی تجاویز کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد “رجیم چینج” تھا مگر وہ ناکام ہو گئے اور ایرانی قوم اور مسلح افواج نے انہیں ذلت آمیز شکست دی۔
باغری کنی نے شہید سید علی خامنہ ای کی شہادت اور ایرانی جہاز “دانا” پر حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے فلسطین اور لبنان کے عوام کی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی توسیع پسندی ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام کی اصل وجہ ہے۔ مستقل امن صرف فلسطینیوں کے خودمختاری کے حق اور آزاد فلسطینی ریاست سے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عراقچی: ایران نے “اسٹریٹجک فتح” حاصل کر لی، UAE نے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا
انہوں نے روس کی مضبوط حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں دوستوں کا مضبوط موقف واضح ہو جاتا ہے۔


