اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف قرارداد منظور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تیسری کوشش ہے جو امریکہ اور بحرین کی پہل پر کی جا رہی ہے اور اسے اردن، متحدہ عرب امارات اور قطر کی حمایت بھی حاصل ہے۔
ایران نے اس قرارداد کو ماضی کی غلطیوں کی تکرار اور علاقائی حقائق کو نظر انداز کرنے کا اقدام قرار دیا ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے خلاف ہے۔
پہلی قرارداد صرف ایران پر مرکوز تھی اور شرمناک تھی۔ دوسری قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا تھا۔ نئی قرارداد بھی پہلے ماڈل پر مبنی ہے اور خطے کی حقیقتوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ اس میں ایران پر الزامات لگائے گئے ہیں مگر امریکی بحری ناکہ بندی اور صیہونی حملوں کا کوئی ذکر نہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا کہ سلامتی کونسل اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ سمندروں میں عدم تحفظ کی اصل وجہ امریکہ ہے۔ ہم چین اور روس سمیت رکن ممالک سے رابطے میں ہیں۔
چین کے اقوام متحدہ کے سفارتکار نے بھی اس قرارداد کے مواد اور وقت پر تنقید کی ہے۔ ایران کے مشن نے واضح کیا کہ امریکہ کی دھمکیوں اور جبری حمایت سے یہ اقدام جائز نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے انصاراللہ رہنما: صہیونیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں
ایران نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی برقرار رکھنے کے لیے علاقائی تعاون اور عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ایسے یکطرفہ اقدامات کشیدگی بڑھانے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔


