ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کو کسی بھی ٹیم کے خلاف سیاسی دباؤ یا امتیازی سلوک کا آلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے X پر لکھا کہ میزبان ملک (امریکہ) کی ذمہ داری ہے کہ تمام ٹیموں کے ساتھ برابر، احترام اور غیر جانبدارانہ سلوک کیا جائے۔
انہوں نے کہا: "ویزا، داخلہ، رہائش، سفر، سرکاری وفود اور میچوں کی سہولیات — یہ سب کچھ کسی ٹیم کے خلاف سیاسی ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔”
یہ بھی پڑھیں : ایرانی وفد گوادر بندرگاہ پہنچ گیا، چابہار اور گوادر کو جوڑنے کا اہم قدم
غریب آبادی نے کہا کہ ایران کی قومی فٹبال ٹیم فیفا کے قوانین کے مطابق ورلڈ کپ میں کھیلنے کا حقدار ہے۔ اگر کھلاڑیوں، کوچنگ سٹاف یا وفد کے ارکان کے لیے داخلے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو یہ عالمی کھیلوں کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
انہوں نے فیفا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ یقینی بنائے کہ ایران سمیت تمام ٹیموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے شرکت کرنے کا موقع ملے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ورلڈ کپ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کھیل سیاست کا میدان نہیں ہے۔ ورلڈ کپ کھیلوں کا مقابلہ ہے، نہ کہ سیاسی دباؤ کا ذریعہ۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ 2026 کا ورلڈ کپ میزبان ہے اور ایران-امریکہ کے درمیان حالیہ تناؤ کے باعث ایرانی ٹیم کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔


