کرج کے میئر مہرداد کیانی نے کہا کہ پل کے کچھ حصے حملے کے بعد الگ ہو کر خطرناک طور پر لٹک رہے تھے جو شہریوں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
کیانی نے کہا کہ یہ اقدام شہریوں کی جان کی حفاظت اور علاقے میں سکون و اطمینان بحال کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دشمن کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پل B1 جو ملک کا ایک فن تعمیر کا شاہکار اور مضبوط ترین اور قیمتی پل تھا، 13 فروردین کو صیہونی امریکی دشمن کے حملے کا نشانہ بنا۔ اس حادثے نے اس ڈھانچے پر بہت سے زخم لگائے مگر شہری انتظامیہ اور کرج کے لوگوں میں خدمت، تعمیر نو اور استقامت کے عزم کو ہرگز کمزور نہیں کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں :
میئر نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد میونسپلٹی کی فنی، تعمیراتی اور ماہرین کی ٹیموں نے فیلڈ پر موجود ہو کر خطرے کا درست جائزہ لیا اور فوری کارروائی شروع کر دی۔ آج یہ آپریشن مکمل صلاحیت کے ساتھ بھاری مشینری اور جدید آلات کے استعمال سے جاری ہے۔
کیانی نے کہا کہ پل B1 آج اگرچہ ایک ناجائز حملے کی نشانی اپنے جسم پر لیے ہوئے ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ شہری انتظامیہ کی ہوشیاری، عملی اقتدار اور شہریوں کی جان کی حفاظت کے لیے پکا عزم کی علامت بھی بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرج کی میونسپلٹی پختہ عزم اور ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ مکمل حفاظتی آپریشن اور پل کو مستحکم، محفوظ اور معیاری حالت میں واپس لانے تک لوگوں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور کسی بھی خطرے کو شہریوں کی خدمت اور سلامتی میں خلل نہیں پڑنے دے گی۔


