ایران دباؤ میں نہیں ٹوٹے گا، غالیباف کا واضح اعلان
ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا کہ جاری جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کر کے ایران بین الاقوامی نظام میں اہم اور بااثر کھلاڑی بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نئی حکمت عملی کے تحت بحری ناکہ بندی کے ذریعے اقتصادی دباؤ ڈال رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ملک کو تسلیم کرایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی حملے، خصوصاً دہشت گردی کی شکل میں، کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ دشمن اقتصادی دباؤ پر بہت بھروسہ کر رہا ہے مگر اسے ایک بار پھر غلط رپورٹس ملی ہیں اور اس بنیاد پر غلط فیصلے کیے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام اقتصادی مشکلات کے باوجود ملک کی آزادی اور عزت کی خاطر مشکلات برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی عوام کو تاریخی شعور حاصل ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اس حساس خطے میں دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ضروری ہے۔
غالیباف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ہم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اس لیے شہری کسی ایسی معلومات کا اشتراک نہ کریں جو دشمن کے کام آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آج جدید دور کی ایک اہم جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے "ایران ہم دل” مہم شروع کرنے کی اپیل کی جو سماجی یکجہتی پر مبنی ہو گی۔ انہوں نے بسیج فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ زیادہ فعال ہو کر عوام کے روزمرہ مسائل حل کرنے میں پیش پیش رہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹینکر ٹریکرز: جزیرہ کھرگ میں تیل ذخیرہ کرنے کی اب بھی جگہ موجود ہے
غالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں نیا معادلہ بن رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور غیر قانونی بحری ناکہ بندی کے ذریعے سمندری سلامتی اور توانائی کی منتقلی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ "امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی برائی کم ہو جائے گی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے جبکہ ایران نے ابھی اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کی ہے


