اگر امارات کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ہم کاری اور پشیمان کن جواب دیں گے۔
مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مکمل بیانات کا متن:
"اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے گزشتہ دنوں میں امارات کے خلاف کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا ہے اور اگر کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو ہم اسے واضح اور مضبوطی سے بیان کر دیتے۔ اس لیے امارات کی وزارت دفاع کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جاتا ہے اور یہ کسی بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔”
"امارات کے حکام اور سیاست دانوں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کا ملک ایک اسلامی سرزمین امریکیوں اور صہیونیوں اور ان کے فوجی آلات اور سازوسامان کا اڈہ نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اسے عالم اسلام اور مسلمانوں سے غداری کرنی چاہیے۔ تمہیں امریکیوں اور صہیونیوں کے جال میں خود کو نہیں پھنسانا چاہیے اور کافروں اور مشرکوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے ساتھ کسی بھی تعاون سے گریز کرنے کے بجائے تم مسلمانوں کی ایرانی قوم کو بے رحم میڈیا حملوں جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے کا نشانہ بنا رہے ہو۔”
"افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج امارات عالم اسلام کے دشمنوں اور خطے میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ امریکیوں اور صہیونیوں کے اہم اڈوں میں سے ایک بن چکا ہے اور ان کی زیادہ تر افواج اور فوجی سازوسامان کی تعیناتی کا مقام ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: مجھے جنگیں پسند نہیں، ایران کے ساتھ جنگ کی حمایت نہیں کرتا: ٹرمپ
"پروپیگنڈے جھوٹے الزامات اور مظلوم بن کر دکھانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بین الاقوامی فضا کو بگاڑا جا سکتا ہے۔”
"اگر ہم نے اب تک آپ کے پروپیگنڈے اور امت مسلمہ اور ایران کے دشمنوں کی آپ کی مدد کے خلاف اپنا ردعمل روک رکھا ہے تو یہ صرف سیکیورٹی کی خاطر اور اس ملک میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے حالات کا خیال رکھنے کے لیے تھا۔”
"ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر امارات کی سرزمین سے ایرانی جزائر بندرگاہوں اور ہمارے ملک کے ساحلوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ہم کاری اور پشیمان کن جواب دیں گے۔”


