امریکہ اور بحرین نے آبنائے ہرمز پر نیا قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی
المیادین نے بتایا ہے کہ امریکہ اور بحرین، خلیجی عرب ممالک کی حمایت کے ساتھ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق نظرثانی شدہ مسودہ قرارداد پیش کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس نظرثانی شدہ مسودے میں توجہ بحری کانوں اور شپنگ فیس پر منتقل کر دی گئی ہے جبکہ پہلے والے مسودے میں فوجی طاقت کے براہ راست استعمال کی زبان نرم کر دی گئی ہے۔
اس تجویز شدہ قرارداد میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات (Chapter VII) کا حوالہ بھی نکال دیا گیا ہے جو طاقت کے استعمال یا پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے امریکی ڈسٹرائرز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا
نظرثانی شدہ مسودہ بحری سلامتی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر بحری کان بچھانا بند کرے، موجودہ کانوں کی جگہ بتائے، تجاری جہازوں پر حملے روکے اور شپنگ فیس لگانے کی کوشش ختم کرے۔
اس مسودے میں انسانی راہداری بنانے کی بھی حمایت کی گئی ہے۔
امریکی سفیر مائیک والٹز نے دلیل دی ہے کہ اس پانی کے راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے سوڈان، کانگو اور غزہ میں امداد پہنچانے میں مشکلات ہو رہی ہیں۔
اس مسودے میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے کی بجائے ممالک کو "دفاعی” بحری حفاظت کے لیے ہم آہنگی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
روس نے سلامتی کونسل سے اس تجویز کو مسترد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایران نے کان بچھانے کے الزامات کی تردید کر دی ہے۔


