اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف جارحیت کے دوران اسرائیل میں مستقل یا طویل مدتی فوجی موجودگی قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار اسرائیل ہایوم نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی اور سیکیورٹی حکام امریکہ کے اس فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ خطے کے دیگر اڈوں سے فوجیوں کو اسرائیل منتقل کرے گا یا مستقل طور پر وہاں فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔
اخبار کے فوجی نامہ نگار نے بتایا کہ یہ بات چیت حالیہ اسرائیلی جارحیت جسے لائنز روار کا نام دیا گیا تھا کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بے مثال فوجی ہم آہنگی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو ایک اسٹریٹجک امریکی قلعہ سمجھ رہا ہے جہاں سے بغیر کسی رکاوٹ کے فوجی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : دامون جیل میں فلسطینی خواتین پر تشدد اور بھوک کا سلسلہ بڑھ گیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوجی اہلکار اسرائیلی کمانڈ سنٹر میں موجود تھے اور انہیں اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا براہ راست علم ہوا۔
امریکی ایئر فورس سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے اسرائیلی ایئر فورس کے سابق کمانڈر سے ملاقات میں کہا کہ موجودہ فوجی ہم آہنگی مطلوبہ سطح ہے اور اسے کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں نئی فوجی حکمت عملی بنا رہا ہے جس میں اسرائیل میں مستقل فوجی موجودگی شامل ہو سکتی ہے۔
اگرچہ نتنیاہو اور ٹرمپ کے درمیان لبنان اور ایران پالیسی پر اختلافات ہیں لیکن فوجی سطح پر تعاون مکمل طور پر برقرار ہے۔


