اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے صہیونی اور امریکی جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز پر مکمل اور مسلسل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے سب سے اہم گذرگاہ ہے۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ساحلی ملک کو اپنے علاقائی پانیوں پر 12 ناٹیکل میل تک خودمختاری حاصل ہے۔ آبنائے ہرمز کی سب سے تنگ جگہ صرف 21 ناٹیکل میل چوڑی ہے، اس لیے یہ تقریباً مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے۔
ہرمز کے جمعہ امام حجت الاسلام جعفر رستاخیز نے کہا کہ ایران برسوں سے احتیاط برت رہا تھا مگر دشمن نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اب آبنائے ہرمز پر خودمختاری کا استعمال نہ صرف ایران کا حق ہے بلکہ خطے میں حقیقی امن قائم کرنے کا واحد راستہ بھی ہے۔
جسک کے جمعہ امام حجت الاسلام عباس ذاکری نے کہا کہ ایران کی تقریباً 80 دن کی بالادستی قومی عزم اور فعال روک تھام کی علامت ہے۔ ابو موسیٰ کے حجت الاسلام شیرزاد حسنی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری مطلق اور ناقابل تردید ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پوٹن: روس اور چین کی دوستی کسی کے خلاف نہیں، عالمی امن کے لیے ہے
ایرانی فوج کے کمانڈروں نے واضح کیا ہے کہ صہیونی یا امریکی جہازوں کا آبنائے ہرمز سے گزرنا قومی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔


