ایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
تہران (06 مئی 2026): ایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران عالمی قوانین کے تحت پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھے گا۔ یہ بیان عراق کے نامزد وزیر اعظم علی الزیدی سے ان کی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دو ٹوک موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات میں چاہتا تھا کہ عالمی قوانین کے تحت اس کا ایٹمی پروگرام جاری رہے، ہر چیز پر قبضے کی بجائے ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی مطالبات کو یک طرفہ طور پر تسلیم کرنے کا معاہدہ ناممکن ہے، ایک طرف امریکا ایران پر شدید دباؤ کی پالیسی پر چل رہا ہے، دوسری طرف مذاکرات چاہتا ہے، دھمکیوں کے سائے میں گفتگو نہیں کی جائے گی۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کہتا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے، لیکن دوسری طرف رہبر انقلاب نے واضح اور دو ٹوک ایٹم بم کا شرعی فتویٰ دیا تھا، پھر بھی انہیں شہید کر دیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس اب کوئی چانس نہیں، ایرانی نیوی کے تمام جہازوں کو ڈبو دیا ہے، اس کے پاس ایٹم بم ہوتا تو ہم آج یہاں نہ ہوتے، مشرق وسطیٰ اور اسرائیل ختم ہو جاتے، ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔


