تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور بحران کے سیاسی حل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کی شام سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
فوجی راستے پر اصرار صورتحال کو مزید پیچیدہ کرے گا
سید عباس عراقچی نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ فوجی راستے پر اصرار اور سیاسی حل کو نظر انداز کرنا موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں جاری بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اور ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے آغاز اور سیاسی تصفیے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
علاقائی سفارت کاری میں ایران کا کردار
یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب خطے میں امریکی اور صہیونی جارحیت کے تناظر میں کشیدگی عروج پر ہے۔ تہران مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ خطے کے مسائل کا حل علاقائی ممالک کے باہمی مکالمے میں ہے، نہ کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار میں۔ اسی روز ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے بھی علاقائی ممالک کو امریکی سکیورٹی چھتری ترک کرنے کا مشورہ دیا۔
یمن کی انصار اللہ تحریک اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا معاملہ برسوں سے خطے کی سلامتی کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے، اور ایران نے ماضی میں بھی بارہا یمنی بحران کے سیاسی حل اور یمنی عوام کے خلاف جارحیت کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی یہ پیشکش اس بات کی عکاس ہے کہ تہران علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مسلم ممالک کے درمیان براہ راست رابطوں کو فروغ دینے کی پالیسی پر کاربند ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستہ اختیار کرنے والا ایک اور آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں




