مواد پر جائیں

بھروچ جامع مسجد پر مندر کا دعویٰ، عدالت نے جواب مانگ لیا

دی وائس آف امہ : بھارتی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے آثارِ قدیمہ کے وفاقی ادارے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو اس درخواست میں پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تاریخی بھروچ جامع مسجد اصل میں جین مندر تھی۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ مکتوب میڈیا کے مطابق یہ حکم جمعے کو سماعت کے دوران دیا گیا، اور کیس کی اگلی سماعت 13 اکتوبر کو ہوگی۔

پانچ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ عمارت کو "اشوا بودھ تیرتھ اور شکونیکا وہار” تسلیم کیا جائے، اس کے تہہ خانے سے مبینہ طور پر ملنے والی جین تیرتھنکر ملی ناتھ کی مورتی کو تحفظ دیا جائے، اور وہاں جین اور ہندو عبادت کی اجازت دی جائے۔ نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق درخواست میں مسجد کا موجودہ نام واپس لینے اور نماز پر پابندی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

بھروچ جامع مسجد: 1909 کے گزٹ پر سوال

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ عمارت کا طرزِ تعمیر اور قدیم جین ادب کے حوالے اسے جین عبادت گاہ ثابت کرتے ہیں، اور 1909 کے گزٹ میں اسے مسجد درج کرنا "شروع سے غلط” تھا۔ ان کے دعوے کا مرکزی نکتہ جون 2026 میں تہہ خانے سے مورتی ملنے کی اطلاع ہے۔

اے ایس آئی نے عدالت کو بتایا کہ کوئی بھی مزید کارروائی قانون کے مطابق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکتی ہے، اور اس کی بنیادی ذمہ داری یادگار کا تحفظ ہے جبکہ عبادت کی اجازت ریاستی حکومت کا دائرہ ہے۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے مذہبی حساسیت کے پیشِ نظر احتیاط پر زور دیا اور کہا کہ حکومت درخواست گزاروں کے تمام دعووں کی تائید نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں : دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج: شاہین باغ سے 250 گرفتار

مساجد پر دعووں کا بڑھتا سلسلہ

یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب الجزیرہ کے مطابق ستمبر کے آخر میں مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں سڑک کشادہ کرنے کے لیے تاریخی شاہی مسجد کا ایک حصہ ہٹایا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوا۔ الجزیرہ کے مطابق حکمران بی جے پی پر الزام ہے کہ وہ مساجد، مزارات، قبرستانوں اور مدارس کو غیر قانونی یا سابق مندروں پر تعمیر قرار دے کر منظم طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا تھا کہ معاملہ "کسی ایک مسجد یا ایک برادری سے کہیں بڑا ہے” اور یہ قانون کی حکمرانی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔

ماخذ: مکتوب میڈیا، نیو انڈین ایکسپریس، الجزیرہ

About The Author