مواد پر جائیں

انڈونیشیا میں لازمی حلال سرٹیفکیشن 18 اکتوبر سے، کوئی تاخیر نہیں

دی وائس آف امہ : دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ انڈونیشیا میں لازمی حلال سرٹیفکیشن کی پالیسی طے شدہ وقت پر نافذ ہو گی۔ انڈونیشیا کی سرکاری خبر ایجنسی انتارا کے مطابق حلال پروڈکٹ ایشورنس ایجنسی (بی پی جے پی ایچ) نے واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی 18 اکتوبر سے نافذ ہو گی اور اسے مؤخر کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

انڈونیشیا میں لازمی حلال سرٹیفکیشن: "کوئی تاخیر نہیں”

ایجنسی کے سربراہ احمد ہیکل حسن نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا: "لازمی حلال پالیسی 18 اکتوبر سے حسبِ منصوبہ نافذ ہو گی، کوئی تاخیر نہیں ہو گی”۔ ان کے مطابق حکومت بعض مصنوعات، خصوصاً مائیکرو اور چھوٹے کاروباروں کی اشیا اور مخصوص درآمدات کے لیے خصوصی ضوابط تیار کر رہی ہے تاکہ نفاذ منظم اور متوازن رہے اور کاروبار متاثر نہ ہوں۔

درآمدی پابندی نہیں، صارف کا تحفظ

ہیکل حسن نے کہا کہ لازمی سرٹیفکیشن کوئی درآمدی پابندی یا غیر ضروری بوجھ نہیں بلکہ صارفین کے تحفظ اور کاروباری یقین دہانی کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ یہ پالیسی حلال مصنوعات کی ضمانت سے متعلق 2014 کے قانون نمبر 33 کے مطابق ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ نفاذ کے بعد کاروباری اداروں پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے، بلکہ رہنمائی، معاونت اور نگرانی بڑھائی جائے گی۔ ہیکل حسن نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ ایسے افراد یا گروہوں سے ہوشیار رہیں جو خود کو ایجنسی کا اہلکار ظاہر کر کے پالیسی کے نام پر رقم مانگیں، اور مستند معلومات کے لیے صرف ایجنسی کے سرکاری پورٹل پر انحصار کریں۔

ماخذ: انتارا

About The Author