دی وائس آف امہ : مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برس میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کی دھماکہ خیز طاقت چھ ایٹم بموں کے برابر ہے۔ ڈیز آف پیلسٹائن کے مطابق انہوں نے جمعہ کو تیونس سے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی فوج "ملبے کو خاک میں بدل رہی ہے جبکہ شہریوں کے پاس پناہ کی کوئی جگہ نہیں”۔
فرانسسکا البانیز: "سست موت” اور الفاظ کی بے بسی
غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے البانیز نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پر تقریباً دو لاکھ 23 ہزار ٹن بارود گرایا جا چکا ہے، جس میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 57 ہزار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ "صورتحال روز بروز بدتر ہو رہی ہے اور اب الفاظ بھی اسے بیان کرنے کے لیے کافی نہیں”۔ ان کے مطابق تقریباً 23 لاکھ آبادی بیماریوں، شدید غذائی قلت اور بنیادی خدمات کے خاتمے کے باعث "شدید تکلیف اور سست موت” کا شکار ہے، جبکہ 18 لاکھ فلسطینیوں کو علاقے کے 30 فیصد سے بھی کم حصے میں دھکیل دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں : غزہ میں 1000 دن سے بجلی بند، زندگی صدیوں پیچھے چلی گئی
امریکی دباؤ اور ہیگ گروپ
البانیز نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے احتساب کی کوشش کرنے والے ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے، جس کے باعث سینیگال اور کولمبیا سمیت کئی ممالک ہیگ گروپ سے الگ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کے سامنے کھڑا ہونا مشکل ہے، خاص طور پر ایسی انتظامیہ کے سامنے جو انتقامی رویہ رکھتی ہو”۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا نظام صحت "بہت پہلے تباہ ہو چکا” اور امداد ضرورت کے مطابق داخل نہیں ہو رہی۔
ماخذ: ڈیز آف پیلسٹائن




