مواد پر جائیں

غزہ کی خواتین: 50 ہزار خواتین و لڑکیاں شہید یا معذور، اقوام متحدہ

دی وائس آف امہ : غزہ کی خواتین اسرائیلی جنگ کی سب سے بڑی قیمت چکا رہی ہیں۔ فلسطینی انفارمیشن سینٹر کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے جمعہ کو بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں تقریباً 50 ہزار خواتین اور لڑکیاں شہید یا شدید زخمی ہو چکی ہیں، یعنی غزہ کی ہر 21 میں سے ایک خاتون یا لڑکی۔

غزہ کی خواتین: 38 ہزار شہید، 11 ہزار سے زائد عمر بھر کے لیے معذور

یو این ویمن کی سربراہ برائے انسانی امور صوفیہ کالٹورپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ "38 ہزار سے زائد شہید ہوئیں اور 11 ہزار 700 اس قدر شدید زخمی ہوئیں کہ اب عمر بھر معذوری کے ساتھ زندگی گزاریں گی”۔ ان کے مطابق اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود گزشتہ ایک سال میں 277 خواتین اور لڑکیاں شہید ہوئیں۔ ادارے کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ میں اسقاط حمل کے تقریباً چار ہزار واقعات ہوئے جو اس سے پچھلے چھ ماہ کے مقابلے میں تین گنا ہیں، جبکہ اب ہر چار میں سے ایک گھرانے کی سربراہ خاتون ہے۔

مزید پڑھیں : غزہ میں 1000 دن سے بجلی بند، زندگی صدیوں پیچھے چلی گئی

20 ہزار مریض علاج کے منتظر

فلسطینی انفارمیشن سینٹر کی ایک اور رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ 20 ہزار 719 مریض اور زخمی بیرون ملک علاج کی فہرست میں ہیں، جن میں تقریباً پانچ ہزار بچے شامل ہیں، جبکہ ایک ہزار 344 سے زائد مریض انتظار کرتے کرتے دم توڑ چکے ہیں۔ رفح کراسنگ 2 فروری 2026 کو محدود طور پر کھلی اور 2 ستمبر تک صرف 2,480 مریض باہر جا سکے، یعنی روزانہ اوسطاً 12 افراد۔ وزارت کے مطابق ادویات کی قلت 47 فیصد اور کینسر کی ادویات کی قلت 61 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ماخذ: فلسطینی انفارمیشن سینٹر

About The Author