مواد پر جائیں

دمام ایئرپورٹ کے قریب یمنی میزائل، ریاض حملے میں 12 جاں بحق

دی وائس آف امہ : دمام ایئرپورٹ کے اطراف ایک یمنی میزائل آ گرا، جس کے بعد سعودی عرب کے مشرقی صوبے کا مرکزی ہوائی اڈہ بھی یمنی کارروائیوں کی زد میں آ گیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف میزائل گرنے کا اعتراف کیا ہے، جبکہ الجزیرہ کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اسے "مقذوف” قرار دیا اور نقصان کی تفصیل نہیں بتائی۔

ریاض ایئرپورٹ حملے میں 12 افراد جاں بحق، 309 زخمی

سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ہفتے کی سہ پہر ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 سعودی شہری اور بنگلہ دیش، مصر، اردن، شام، فلسطین، سوڈان اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے مقیم افراد شامل ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 309 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

اتحاد کے ترجمان نے ریاض حملے کو "دہشت گردانہ کارروائی” قرار دے کر "سخت جواب” دینے کا اعلان کیا اور بتایا کہ الخرج کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ امریکہ اور خلیج تعاون کونسل نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے۔

مزید پڑھیں : ریاض ایئرپورٹ پر حملہ: پروازیں معطل، متعدد افراد زخمی

نیویارک ٹائمز کا اعتراف

تسنیم کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ریاض ایئرپورٹ پر یہ حملہ فروری میں ایران کے خلاف امریکی و صیہونی جنگ کے آغاز کے بعد خلیج کے کسی عرب ملک میں سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے۔ اخبار کے مطابق اس ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر بار بار ہونے والے حملوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کے ریاض کو فضائی نقل و حمل اور تجارت کا عالمی مرکز بنانے کے منصوبوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، اور آئندہ ہفتوں کے اہم بین الاقوامی پروگرام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

یمنی مسلح افواج نے گزشتہ ہفتے سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ صنعاء ایئرپورٹ پر سعودی حملوں کے جواب میں شروع کیا تھا، اور صنعاء ان کارروائیوں کو یمن پر جارحیت اور برسوں سے جاری ناکہ بندی کا جواب قرار دیتا ہے۔ دمام کے واقعے پر یمنی مسلح افواج کا باضابطہ بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔

ماخذ: تسنیم نیوز ایجنسی، الجزیرہ

About The Author